2 جون 2012 - 19:30

مصر کے سابق ڈکٹيٹر حسني مبارک کے سلسلے ميں عدالتي فيصلے کے خلاف مصر کي تقريبا سبھي سياسي و مذہبي شخصيات نے برہمي کا اظہار کرتے ہوئے اس کي شديد مذمت کي ہے.

ابنا: مصر کے صدارتي انتخابات کے اميدوار محمد مرسي نے کہا ہے کہ اگر وہ مصر کے صدارتي انتخابات ميں کامياب ہوجاتے ہيں تو معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک پر دوبارہ مقدمہ چلائيں گے ممحد مرسي نے اپنے ايک بيان ميں کہا کہ وہ ان شہداء کے خون کا بدلہ سابق ڈکٹيٹر حکومت کے حکام سے لے کر رہيں گے جنھيں پچيس جنوري کے انقلاب ميں شہيد کيا گيا ہے انہوں نے کہا کہ وہ کرمنل کورٹ  کے وکيلوں اور قانوني ماہرين کي ايک ٹيم تشکيل دے کر ايک بار پھر حسني مبار ک اور اس کے ساتھيوں پرمقدمہ چلائيں گے تاکہ انہيں ان کے بھيانک جرائم کا ارتکاب کرنے کي قرار واقعي سزا مل سکے -

مصرکي عدالت نے سنيچر کو اپنے ايک فيصلے ميں مصر کے سابق ڈکٹيٹر حسني مبارک کے خلاف مقدمات کا فيصلہ سناتے ہوئے اسے عمر قيد کي سزاسنائي ہے جبکہ مصري عوام کا مطالبہ ہے کہ حسني مبارک نے سيکڑوں شہريوں کا قتل عام کيا ہے اس لئے اس کو موت کي سزا ملني چاہئے دريں  اثنا مصرکي سب سے بڑي اپوزيشن جماعت اخوان المسلمين نے عدالتي فيصلے کے خلاف ملک گير احتجاج کي کال دي ہے -  اخوان المسلمين نے مصري عوام سے کہا ہے کہ وہ حسني مبارک اور اس کے بيٹوں کے سلسلے ميں عدالتي فيصلوں کے خلاف پورے ملک ميں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کريں مصر کے ايک اور سياسي رہنما اور آئي اے اي اے کے سابق ڈائريکٹر جنرل محمد البرادعي نے بھي کہا ہے کہ حسني مبارک کے سلسلے ميں عدالت کا فيصلہ مصري عوام کے انقلاب کو کمزور بنانے کي سازش ہے -مصري عوام کا کہنا ہے کہ حسني مبارک کو عمر قيد کي سزا اس لئے سنائي گئي ہے اگرصدارتي انتخابات ميں احمد شفيق کامياب ہوجاتے ہيں تو اسے جيل سے رہا کرديا جائے گا.......

/169